Posts

دھوکہ اور ناکامی

دھوکہ اور ناکامی سوال؛ کیوں مجھے ہر کوئی دھوکہ دیتا ہے۔؟ جواب۔ یہ بہت افسوسناک ہے کہ آپ کو دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے یہ نکات فائدہ مند ہوسکتے ہیں  خود پر اعتماد کریں اپنے آپ کو مضبوط بنائیں اپنی قدر کو پہچانیں یاد رکھیں کہ دوسروں کا رویہ دوسروں کا رویہ آپ کی ذات کا عکاس نہیں ہے۔ صیح لوگوں کا انتخاب کریں ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو آپ کے ساتھ مخلص ہوں اور آپ کی عزت کریں لوگوں کو قریب آنے کا موقع ن آدینے سے پہلے ان کے روئے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنی حدیں مقرر کریں دوسروں کے ساتھ تعلقات میں حدود قائم کریں تاکہ وہ آپ کا احترام کریں اور آپ کا فائدہ نہ اٹھائیں ماضی سے سیکھیں دھوکہ دہی کے واقعات پر غور کریں دیکھیں کہ کہاں آپ نے اعتماد کیا جو شائد درست نہیں تھا اس سے مستقبل میں آپ بہتر فیصلے کرسکیں گے اپنی بات پر قائم رہیں اگر کوئی شحص آپ کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہیں اور خود کو اس تعلق سے الگ کر لیں اپنے جزبات پر قابو پائیں اگر یہ صوتحال آپ کو مایوس یا دکھی کررہی ہے تو کسی دوست یا فیملی ممبر یا تھراپسٹ سے بات کریں یہ ...

انٹرنیٹ کی بندش

لاہور میں انٹر نیٹ کی بندش کی وجہ حالیہ سیاسی ایس مظاہرے اور سیکیورٹی خدشات ہے وزارت داخلہ نے تحریک انصاف کے اجتجاج کے پیش نظر کچھ شہروں جن میں لاہور بھی شامل ہے انٹرنیٹ کی سہولت کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اقدام نیکٹا کی جانب سے دہشت گردی کے الرٹ کے بعد جاری کیا گیا ہے تاکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ ک یقینی بنایا جاسکے یہ بندش صرف صرف انٹر نیٹ پر لاگو ہے کال اور ایس ایم ایس سروس بحال رہے گی یہ ہمارے ملک میں آئے دن کی کہانی ہے اپنی سیکیورٹی خامیوں کو حل کرنے کی بجائے ہم اپنی نہ اہلی کو بندش کے زریعے حل کرتے ہیں کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس بندش سے لاکھوں لوگوں کے روزگار کا کتنا نقصان ہوگا نہ یہ سیاسی پارٹیاں سوچتی ہیں نہ ورکر اور نہ ہی گورنمنٹ کیا ہی اچھا ہو کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر اس کا حل نکال لیں لیکن ہر سیاسی جماعت کا بس ایک ہی مقصد ہے حکومت کا حصول عوام ان کے مقاصد کو سمجھنے کی بجائے بس استمعال ہوتی ہے اللہ ہمارے ملک کو لوٹییروں اور چوروں سے محفوظ فرمائے آمیں

پاکستان اور پولیٹیکل پارٹیز

پاکستان میں تمام بڑی پارٹیاں ن لیگ پپلز پارٹی تحریک انصاف عدم برداشت کا شکار ہیں الیکشن رزلٹ کو تسلیم نہ کرنا حکومت کو نہ چلنے دینا اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانا عام بات ہے جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ آتا نہیں اور اگر کوئی غلطی سے آجائے تو دگنی قیمت پر بھی تیار نہیں ہوتا ہے سی پیک جیسے بہترین منصوبے بھی التوا کا شکار ہے ہمارے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے خطے کے تمام ملک ہم سے آگے نکل گئے ہے ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈران جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں لیکن ان کی اپنی پارٹیوں میں جمعوری اقدار کو پامال کیا جاتا ہے ان کے لیڈران نسل در نسل اپنا قبضہ پارٹی پر جما کر رکھتے ہیں سچ پوچھو تو بس تین چار خاندان سیاست پر قبضہ جما کر بیٹھے ہیں جو پارٹی اقتدار میں ہے وہ باقی پارٹیوں کو انتقام کا نشانا بناتی ہے اور جو اقتدار میں نہیں ہوتی وہ جائز ناجائز جو بھی طریقہ ہو حکومت کو نیچے گرانے میں لگی رہتی ہے آج ان بیوقوفیوں کی وجہ سے ہمارا ملک معاشی سیاسی اور اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہے اور ان پارٹیوں کی آپسی دشمنی کا فائدہ غیر جمعوری طاقتیں اٹھاتی ہیں اور حکومتیں ہمیشہ کمزور رہتی ہیں پ...

تحریک لبیک بمقابلہ تحریک انصاف

تحریک لبیک بمقابلہ تحریک انصاف عمران خان کی گورنمنٹ اور تحریک لبیک حکومت کا خونی کھیل حکومت کا تاریخی لاٹھی چارج اور بیشمار شہادتیں ۲۴ نومبر کا ایکشن اس کے مقابلہ میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہیں بلکہ میرا ماننا ہے نواز شریف کا زوال ممتاز قادری کو پھانسی دینا اور عمران کازوال تحریک لبیک کے سینکڑوں کارکنوں اور بابا جی کی شہادت اور علماء کی تزلیل ہے آج تحریک لبیک سیاسی طور پر ناکام صحی لیکن سٹریٹ پاور میں نمبر ون ہے اور تحریک انصاف کا زوال اسقدر شدید ہے کہ اسکی کال پر سندھ اور پنجاب بلوچستان اور گلگت بلتستان سے کوئی خاص نمائندگی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور کے پی کے میں حکومت کوئی پاور شو نہیں دیکھا سکی پریڈ گراونڈ سے اچانک ڈی چوک کی طرف روانگی صرف کراؤڈ نہ ہونے کی شرمندگی سے بچنے کے لئے تھا درحقیقت تحریک انصاف میں کوئی قربانی دینے کو تیار نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ایک سال میں آپ کو تحریک انصاف میں بے حد معزولی دیکھنے میں آئی ہے اس کی وجہ عمران کی ہدایت پر عمل نہ کرنا ہے اور ان کی مرضی کا رزلٹ نہ دینا ہے اس وقت تحریک لبیک کے پاس ایک بہترین اور مخلص اور مظبوط قیادت موجود ہے جبکہ تحریک انصا...

عمران خان کا حقیقی مسلہ

عمران خان بلا شبہ ایک باصلاحیت اور انرجیٹک لیڈر ہیں اور واحد لیڈر ہیں جو ناصرف نوجوان نسل کہ ں کہ مقبول ترین لیڈر ہیں بلکہ ذولفقار علی بھٹو کے بعد وہ سواحد لیڈر ہیں جو یکساں طور پر پاکستان کے تمام طبقوں میں مقبول ہیں اور تبدیلی کی علامت سمجھے جاتے ہیں سترہ سال کی جدو جہد کے بعد آخر کار ۰۱۳ میں انہیں وہ پہلی بار بڑی کامیابی ہوئی اور ۲۰۱۸ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے لیکن کیوں کہ سیاسی تجربہ نہ رکھتے تھے اپنے دو ٹوک انداز اور نامناسب ساتھیوں کے ساتھ کی وجہ سے وہ ملکی سطع پر کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہ دے سکے بیوقوف مشیروں کی وجہ سے ان کی حکومت ساڑھے تین سال میں ہی ختم ہو گئی اپوزیشن میں بیٹھ کر سیاست کرنے کی بجائے وہ سٹریٹ پاور کے زریعے حکومت کے حصول کے لئے نکل پڑے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا لیکن غلطی یہ کی ایک ساتھ حکومت اسٹیبلشمنٹ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ محاظ آرائی شروع کر دی جس کی وجہ سے چند شر پسند عناصر کی وجہ سے آج وہ جیل میں بیٹھے ہیں اور جیل سے رہائی کا معاملہ بھی ان کی ضدی شحصیت کی وجہ سے اٹکا ہوا ہیں جموریت کا حسن یہ ہے کہ تنقید اور تکلیف کو برداشت کیا جائے ماضی کو بل...

تالیاں بجاو اور سوتے رھو

جناب کچھ حقیقتیں لوگ 20 لاکھ دے کر اس رستے کا انتخاب کرتے ھیں اس رستے پر جانے والے اتنے غریب نہیں ھوتے جو 20 لاکھ دے دیتے ھیں در حقیت یہاں معاشی سے زیادہ تربیت کا قصور ھے میرا زاتی تجربہ ھے کا ماں باپ کے لاڈ پیار سے جو بچے پڑھ نہیں پاتے لیکن خاب بڑے ھوتے ھیں وہ اس شارٹ کٹ کو اپناتے ھیں پاکستان میں 23 کڑوڑ لوگ رھتے ھیں چند ھزار نہیں انڈیا میں پاکستان کی نسبت زیادہ غریبی ھے لیکن کبھی وہ یہ رستہ نہیں اپناتے بات حالات کی نہی حالات سے لڑنے کی ھے ھم اپنی خواہشات کے چکر میں خود کو بھی تکلیف دیتے ھیں اور اپنوں کو بھی پاکستان کے لوگ اپنے دشمن خود ھیں آج تک کبھی آپ نے دیکھا کتنی ھی مہنگائی کیوں نہ ھوجائے لوگ سڑکوں پر نہیں نکلیں گے لیکن کوئی لیڈر کال کرے کام چھوڑ کر پہنچیں گے ھمیں پاکستان کی غربت یا مسائل کا حل نہیں چاھئے ھمیں نواز شریف زرداری عمران خان چاھئے اس ملک کا المیہ شخصیت پرستی زاتی پسند نہ پسند اور مفاد پرستی ھے ھمارے ملک جیسا کوئی ملک نہیں لیکن افسوس جو آیا اس نے لوٹا محصوص چہرے پارٹیاں بدل بدل کر اس ملک کو لوٹ رھے ھیں اور ھم ھر نئی پارٹی کے نام پر تالیاں بجاتے ھیں کیوں کہ ھمارا مقدر ت...

کردار کشی کی سیاست

کردار کشی کی سیاست۔                             ۔               پاکستان کی سیاست میں ٹائم ٹو ٹائم چینج آتی رھتی ھے یا یوں کہیں کے ٹرینڈ چینج ھوتا رھتا ھے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور ایک دوسرے کو برا ثابت کرنے کی ایک دوڑ لگی ھے پہلے تو بات کرنے کا زریعہ ٹی وی اور اخبار ریڈیو ھی تھا لیکن جب سے سوشل مڈیا کا دور آیا ھے بہت تبدیلیاں آئی ھیں مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات بھی معاشرے پر ھوے ھیں سوشل مڈیا پر جہاں اچھے وی لاگر اور صحافی موجود ھیں وھاں غیر معیاری لوگوں کی بھر مار ھے سارا دن سوشل مڈیاُپر آ فوجوں کی بھر مار رھتی ھے لوگ دوسروں کی زاتی زندگی پر اداروں پر سیاستدانوں پر تبصرہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ھیں اور آزادی راے کا ناجائز فاق فائدہ اٹھاتے ھیں ایک دوسرے کی زندگی پر بات کرنا ایک دوسرے کی کردار کشی کرنا عام بات ھے اس بات کا کسی کو خیال نئیں کہ کسی کی زاتی زندگی میں آپ کی رائے یا اسکی کردار کشی اس کو کتنی تکلیف دے گی سوشل مڈیا پر کچھ خواتین اور مرد ایسے بھی ھیں جو ایس...