تحریک انصاف، لانگ مارچ اور گورنر راج — چند اہم سوالات اور میرے جوابات


تحریک انصاف، لانگ مارچ اور گورنر راج: اصل سوال قیادت، جمہوریت اور پاکستان کا ہے!

تحریک انصاف، لانگ مارچ اور گورنر راج — چند اہم سوالات اور میرے جوابات

تمہید: اختلاف برائے اصلاح، نہ کہ مخالفت برائے مخالفت

میرا مقصد تحریک انصاف کی مخالفت کرنا نہیں، بلکہ اصلاح، غلطیوں کی نشاندہی اور ہر پاکستانی کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ میں کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو پاکستان سے بڑا نہیں سمجھتا۔ عمران خان ہوں، نواز شریف ہوں یا آصف علی زرداری، ہر رہنما کی حمایت بھی اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور اس کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔

ایک دوست نے لانگ مارچ، عمران خان کی رہائی، گورنر راج، ایمرجنسی اور جمہوریت کے حوالے سے چند اہم سوالات اٹھائے۔ میں ان کے سوالات کے جواب اپنے نقطۂ نظر کے مطابق پیش کر رہا ہوں تاکہ قارئین خود فیصلہ کر سکیں۔

سوال نمبر 1: کیا آپ کو معلوم ہے کہ لانگ مارچ کا اصل مقصد کیا تھا؟

دوست کا مؤقف:

لانگ مارچ کا مقصد عمران خان سے ملاقات، ہسپتال میں ان کے علاج کی سہولت، ان کی بہنوں کی بھائی تک رسائی اور عدالتوں میں مقدمات کی جلد سماعت تھا۔ اگر یہ مطالبات پورے کر دیے جاتے تو لانگ مارچ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

میرا جواب:

بھائی جان! میں آپ کے ان مطالبات سے اتفاق کرتا ہوں۔ عمران خان کو مناسب طبی سہولتیں ملنی چاہییں، ان کے اہلِ خانہ کو قانون کے مطابق ملاقات کا موقع ملنا چاہیے، مقدمات کی منصفانہ اور جلد سماعت ہونی چاہیے اور اگر وہ قانونی طور پر رہائی کے حق دار ہیں تو انہیں رہا ہو کر عملی سیاست میں حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیے۔

لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر لانگ مارچ کے مقاصد اتنے واضح تھے تو کیا تحریک انصاف کی صوبائی اور وفاقی قیادت نے ان کے حصول کے لیے سنجیدہ، منظم اور مسلسل جدوجہد کی؟

کیا عمران خان کے نام پر منتخب ہونے والے تمام ایم این اے، ایم پی اے اور دیگر رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے؟ کیا انہوں نے اپنے قائد کی رہائی کے لیے عملی طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں؟

میرے نزدیک مسئلہ عمران خان کی مقبولیت نہیں، بلکہ اس مقبولیت کو نتیجہ خیز سیاسی جدوجہد میں تبدیل کرنے کا ہے۔ افسوس کہ بعض رہنما عمران خان کا نام تو استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے عملی جدوجہد میں وہ سنجیدگی نظر نہیں آتی جس کی توقع کی جاتی ہے۔

سوال نمبر 2: اگر تحریک انصاف مقبول جماعت ہے تو عوام بڑی تعداد میں باہر کیوں نہیں نکلتے؟

دوست کا مؤقف:

آپ کی یہ بات غلط ہے کہ لانگ مارچ ناکام تھا۔ وہ مکمل طور پر کامیاب تھا اور اسی وجہ سے فوج نے یہ اقدامات کیے۔

میرا جواب:

بھائی جان! کسی احتجاج کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ صرف نعروں، سوشل میڈیا پوسٹوں یا قیادت کے دعووں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے مقاصد، عملی نتائج، عوامی شرکت اور بعد کے حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اگر تحریک انصاف خود کو ملک کی مقبول ترین جماعت سمجھتی ہے اور خیبر پختونخوا میں اسے طویل عرصے سے حکومت کرنے کا موقع ملا ہے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں اس کی عوامی قوت کو مسلسل اور منظم سیاسی تحریک میں کیوں تبدیل نہیں کیا جا سکا؟

میں یہ نہیں کہتا کہ ایک احتجاج میں شرکا کی تعداد کسی جماعت کی مجموعی مقبولیت کا حتمی پیمانہ ہے۔ حکومتی پابندیاں، گرفتاریوں کا خوف اور راستوں کی بندش بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن ہر مرتبہ تمام ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں۔

میرے خیال میں تحریک انصاف کی بنیادی کمزوریوں میں عوامی رابطے کا فقدان، صوبائی حکمرانی پر ناکافی توجہ، ترقیاتی کاموں اور عوامی مسائل سے متعلق سوالات، اور سیاسی بیانیے کو صرف عمران خان کی رہائی تک محدود کر دینا شامل ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ اگر پارٹی کی قیادت واقعی سنجیدہ ہے تو وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے، منتخب نمائندوں اور عوامی رابطے کی کارکردگی کا احتساب کیوں نہیں کرتی؟

سوال نمبر 3: اگر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہے تو وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی کیوں؟ کیا بلوچستان میں دہشت گردی نہیں؟

دوست کا مؤقف:

بلوچستان میں بھی دہشت گردی کا سنگین مسئلہ موجود ہے اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے حملوں میں سکیورٹی اہلکار جانیں گنوا رہے ہیں۔ اگر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو گورنر راج یا ایمرجنسی کی وجہ بنایا جا سکتا ہے تو بلوچستان میں ایسا کیوں نہیں کیا جاتا؟

میرا جواب:

بھائی جان! یہ ایک اہم سوال ہے، لیکن اس کا جواب صرف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں دیا جا سکتا۔

ہر صوبے کے حالات، انتظامی کارکردگی، سکیورٹی صورت حال اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی موجودگی اپنی جگہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور وہاں بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنائے۔

تاہم اگر خیبر پختونخوا میں صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات ہیں، جبکہ بلوچستان میں دونوں حکومتیں مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہیں، تو یہ فرق سیاسی اور انتظامی تجزیے کا موضوع ہو سکتا ہے۔

لیکن میری ذاتی رائے میں کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ صرف سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے آئینی جواز، واضح شواہد، حقیقی ضرورت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر سیاسی اختلاف کو بذاتِ خود گورنر راج کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

سوال نمبر 4: کیا وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو غائب کرنا جمہوریت ہے؟

دوست کا مؤقف:

فرض کر لیا جائے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی وقت کی ضرورت تھی، تب بھی وزیراعلیٰ اور اسپیکر تک رسائی نہ ہونا یا انہیں مبینہ طور پر غائب کر دینا کیا جمہوری طرزِ عمل ہے؟

میرا جواب:

بھائی جان! میں کسی منتخب عہدیدار کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے، جبری طور پر لاپتا کرنے یا اس کے اہلِ خانہ اور وکلا کو قانون کے مطابق رسائی نہ دینے کے حق میں نہیں ہوں۔

اگر کسی منتخب نمائندے کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ماضی میں بھٹو، نواز شریف یا عمران خان گرفتار ہوئے تھے، اس لیے آج بھی کسی کے ساتھ ایسا سلوک جائز ہو جاتا ہے۔

ماضی کی غلطی مستقبل کی غلطی کا جواز نہیں بن سکتی۔ جمہوریت کا اصل امتحان ہی یہ ہے کہ ریاست اور سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کے حقوق بھی تسلیم کریں۔

میرا اصول واضح ہے: سیاسی رہنما قانون سے بالاتر نہیں، لیکن ریاستی ادارے بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔

سوال نمبر 5: اگر عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد ہو رہی ہے تو کیا پارٹی کی قیادت واقعی مخلص ہے؟

میرا جواب:

میرے خیال میں تحریک انصاف کے اندر یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ کیا تمام منتخب نمائندے اپنے قائد کے لیے حقیقی جدوجہد کر رہے ہیں یا بعض لوگ صرف ان کے نام پر حاصل ہونے والے عہدوں اور سیاسی فوائد سے مستفید ہو رہے ہیں؟

اگر کوئی رہنما عمران خان کی مقبولیت کی بنیاد پر منتخب ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ووٹرز اور اپنے قائد، دونوں کے اعتماد کا حق ادا کرے۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ بحران تحریک انصاف کے لیے ایک امتحان بھی بن سکتا ہے۔ اگر پارٹی کے اندر ایسے لوگ ہیں جو صرف عہدوں اور ذاتی مفادات کے لیے سیاست کرتے ہیں تو ان کی حقیقت عملی کارکردگی سے سامنے آنی چاہیے۔

تاہم کسی شخص کو صرف احتجاج میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے بزدل یا غیر نظریاتی قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی مؤقف اور عوامی ذمہ داریوں کے لیے کیا عملی کردار ادا کرتا ہے۔

میری رائے میں عمران خان آج بھی اپنی سیاسی مقبولیت کو ایک مؤثر اور منظم جمہوری تحریک میں تبدیل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ پارٹی انا، ضد، انتشار اور ذاتی مفادات سے نکل کر عوامی مسائل اور قومی مفاد پر توجہ دے۔

سوال نمبر 6: کیا تحریک انصاف کی قیادت طالبان اور افغانستان کے حوالے سے واضح مؤقف رکھتی ہے؟

میرا جواب:

یہ سوال صرف تحریک انصاف سے نہیں، بلکہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے پوچھا جانا چاہیے۔

پاکستان کی خودمختاری، سرحدوں کے تحفظ اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مسلح گروہ پاکستانی شہریوں یا سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتا ہے تو ان حملوں کی واضح مذمت ہونی چاہیے اور قانون کے مطابق اس کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔

میں تحریک انصاف کی قیادت سے یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں کیا واضح مؤقف رکھتی ہے؟ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے علاقوں کے متعلق دعووں پر اس کا جواب کیا ہے؟

اگر کسی سیاسی رہنما نے کوئی متنازع بیان دیا ہے تو اسے سیاق و سباق اور مستند شواہد کے ساتھ پرکھنا چاہیے۔ کسی آڈیو یا ویڈیو کو تصدیق کے بغیر حتمی ثبوت قرار دینا درست نہیں۔ اسی طرح کسی جماعت پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگانے کے لیے بھی ٹھوس شواہد درکار ہیں۔

میرا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے معاملے پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا جائے۔

سوال نمبر 7: کیا وفاقی حکومت کی پالیسی سے اختلاف کرنا ملک کے خلاف کھڑا ہونا ہے؟

میرا جواب:

ہرگز نہیں۔ وفاقی حکومت کی پالیسی پر اختلاف کرنا، اس پر تنقید کرنا اور اس کے متبادل تجویز کرنا ایک جمہوری حق ہے۔

لیکن حکومت پر تنقید اور پاکستان کی خودمختاری یا سلامتی کے خلاف مسلح کارروائیوں کی حمایت دو الگ چیزیں ہیں۔ ان دونوں کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

وفاقی حکومت کو قومی سلامتی کے معاملات میں اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں، جبکہ صوبائی حکومتوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنا چاہیے۔ اگر پالیسی پر اختلاف ہو تو اسے مذاکرات، پارلیمان اور آئینی اداروں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

میرا مؤقف یہ ہے کہ نہ وفاقی حکومت کو ہر اختلاف کو غداری قرار دینا چاہیے اور نہ کسی صوبائی حکومت کو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر قومی سلامتی کے مشترکہ تقاضوں سے لاتعلق ہونا چاہیے۔

پاکستان کی سلامتی اور جمہوری آزادیوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

سوال نمبر 8: کیا سوشل میڈیا پر انقلاب لایا جا سکتا ہے؟

میرا جواب:

بھائی جان! سوشل میڈیا سیاسی رابطے کا مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن صرف پوسٹیں شیئر کرنے، مخالفین کو جواب دینے اور جذباتی نعرے لگانے سے سیاسی تبدیلی نہیں آتی۔

حقیقی سیاسی جدوجہد کے لیے عوام کے درمیان جانا پڑتا ہے، ان کے مسائل سمجھنے پڑتے ہیں، تنظیم بنانی پڑتی ہے، خدمت کرنی پڑتی ہے اور ایک ایسا بیانیہ پیش کرنا پڑتا ہے جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے۔

اگر کوئی جماعت عوام کو مسلسل نفرت، انتقام اور طبقاتی تقسیم کے پیغام پر جمع کرنے کی کوشش کرے تو اس کے دیرپا نتائج محدود ہو سکتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ تحریک انصاف کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی، امن و امان، انصاف اور بہتر حکمرانی جیسے مسائل پر بھی ایک واضح پروگرام دینا چاہیے۔

انقلاب نعروں سے نہیں، عوامی اعتماد، عملی خدمت اور مسلسل جدوجہد سے آتا ہے۔

سوال نمبر 9: کیا آپ تحریک انصاف کے مخالف ہیں؟

میرا جواب:

نہیں بھائی جان! میرا مقصد تحریک انصاف کی مخالفت نہیں، بلکہ اس کی اصلاح اور غلطیوں کی نشاندہی ہے۔

میں عمران خان کے قانونی حقوق، ان کی صحت، ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے حق میں ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تحریک انصاف کی ہر پالیسی، ہر بیان یا ہر سیاسی حکمت عملی سے اتفاق کروں۔

اسی طرح نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری یا کسی دوسرے رہنما کے ساتھ بھی میرا یہی اصول ہے۔ جو اچھا کام کرے، اس کی تعریف ہونی چاہیے اور جو غلطی کرے، اس پر تنقید ہونی چاہیے۔

سیاسی وفاداری کا مطلب اندھی تقلید نہیں۔ اپنے قائد سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی جائے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکے۔

آخری سوال: میرے لیے عمران خان اہم ہیں یا پاکستان؟

میرا جواب:

میرے لیے پاکستان سب سے اہم ہے۔

عمران خان ہوں، نواز شریف ہوں، شہباز شریف ہوں یا آصف علی زرداری، کوئی بھی رہنما پاکستان سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح فوج، حکومت، عدلیہ اور پارلیمان سمیت کوئی ادارہ آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

میں قومی سلامتی کے تحفظ کا حامی ہوں، لیکن اس کے ساتھ آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی، جمہوری آزادیوں اور سیاسی اختلاف کے حق کو بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

میں نہیں چاہتا کہ پاکستان کے شہری اپنے ہی ملک میں سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔ ہمیں اپنے اختلافات کے باوجود ایک قوم بن کر رہنا ہے۔

اختتامی پیغام: اختلاف ضرور کریں، مگر پاکستان کے لیے!

میرا مقصد کسی کی تضحیک کرنا یا کسی سیاسی جماعت کو کمزور کرنا نہیں۔ میرا مقصد اصلاح، غلطیوں کی نشاندہی اور ہر پاکستانی کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔

تحریک انصاف کو اپنی حکمت عملی، عوامی رابطے اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔ وفاقی حکومت کو بھی آئینی حدود، بنیادی حقوق اور جمہوری اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت، دونوں کا احتساب ضروری ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی رہنما کی حمایت کرنا اور اس کی ہر بات کو درست مان لینا ایک ہی چیز نہیں۔ اسی طرح کسی جماعت پر تنقید کرنا اس کا دشمن ہونا نہیں ہے۔

میرے لیے سیاسی جماعتوں، سیاسی عہدوں اور ان کے قائدین سے بڑھ کر پاکستان ہے۔

پاکستان زندہ باد!

I

Comments

Popular posts from this blog

The Saudi–UAE Rivalry, the Yemen War, and the Cost of Power Politics

General Asim Munir: A Dynamic Leadership and Pakistan’s Rising Global Standing.

New Provinces or Better Governance?