جنگ و جدل نہیں، انسانیت مولانا رومی اور علامہ اقبال کی فکر میں بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور عالمی امن


​جنگ و جدل نہیں، انسانیت

مولانا رومی اور علامہ اقبال کی فکر میں بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور عالمی امن

دنیا آج بظاہر ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے عروج پر ہے، مگر اس ترقی کے باوجود انسان ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جس کی جڑیں ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ انسانی رویوں، تعصبات، نفرتوں اور باہمی عدم برداشت میں پیوست ہیں۔

مذہب، مسلک، رنگ، نسل، زبان، قومیت اور جغرافیے کے نام پر پیدا ہونے والی تقسیم نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ کہیں جنگ ہے، کہیں انتہا پسندی، کہیں مذہبی تعصب، کہیں نسلی نفرت اور کہیں تہذیبی تصادم۔

ایسے ماحول میں مولانا جلال الدین محمد رومی اور علامہ محمد اقبال کی فکر ہمارے سامنے ایک ایسا راستہ پیش کرتی ہے جس کی بنیاد محبت، انسانیت، خود شناسی، احترام، مکالمے اور امن پر قائم ہے۔

رومی ہمیں دلوں کو جوڑنے کا ہنر سکھاتے ہیں اور اقبال انسان کو اپنی اندرونی قوت پہچان کر ایک بہتر دنیا کی تعمیر کا درس دیتے ہیں۔


رومی: محبت کی وہ زبان جو سب کو جوڑتی ہے

مولانا جلال الدین محمد رومی کی پوری فکری دنیا کا مرکزی نقطہ عشق و محبت ہے۔

ان کی شہرۂ آفاق مثنوی معنوی کا آغاز ہی بانسری کی آواز سے ہوتا ہے:

بشنو از نی چون حکایت می‌کند
وز جدایی‌ها شکایت می‌کند

یعنی:

بانسری کی آواز سنو کہ وہ اپنی داستان بیان کرتی ہے اور جدائیوں کی شکایت کرتی ہے۔

رومی کے نزدیک انسان کی اصل مشکل ظاہری اختلافات نہیں بلکہ اپنی اصل حقیقت سے دوری ہے۔ جب انسان اپنے باطن کو پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر دوسروں کے لیے محبت، رحم اور احترام پیدا ہوتا ہے۔

اسی لیے رومی کے ہاں عشق کسی ایک قوم، نسل یا مذہب کی ملکیت نہیں۔ عشق ایک ایسی روحانی قوت ہے جو انسانوں کے درمیان قائم مصنوعی دیواروں کو گرا دیتی ہے۔

رومی کا پیغام ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ انسان پہلے انسان ہے، اس کے بعد اس کی دوسری شناختیں آتی ہیں۔


مختلف راستے، ایک حقیقت

رومی کی فکر میں ایک نہایت خوبصورت تصور یہ ہے کہ انسان ظاہری طور پر مختلف راستوں پر چل سکتا ہے، مگر حقیقت کی تلاش اسے ایک ہی مرکز کی طرف لے جاتی ہے۔

اسی مفہوم کو ان سے منسوب معروف اشعار میں یوں بیان کیا جاتا ہے:

چراغ ہر یک ملت جداست
لیک نور او ز یک نور خداست

یعنی مختلف ملتوں کے چراغ الگ الگ ہیں، مگر ان میں روشن ہونے والا نور ایک ہی سرچشمے سے ہے۔

یہ تصور مذہبی اختلاف ختم کرنے کی دعوت نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود احترام اور مکالمے کی دعوت ہے۔

ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں سب لوگ ایک جیسا سوچیں؛ بلکہ وہ ہے جہاں لوگ مختلف سوچ رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے انسانی حق اور عزت کا احترام کریں۔


اقبال: خودی سے انسانیت تک

علامہ محمد اقبال نے رومی کی روحانی فکر کو جدید دنیا کے مسائل سے جوڑ کر اسے ایک نئی فکری قوت عطا کی۔

اقبال کے ہاں انسان محض حالات کا غلام نہیں بلکہ ایک صاحبِ ارادہ، صاحبِ کردار اور صاحبِ ذمہ داری ہستی ہے۔

وہ کہتے ہیں:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اقبال کی خودی خود غرضی یا غرور نہیں۔ خودی سے مراد انسان کے اندر موجود اخلاقی، روحانی اور تخلیقی قوت کا بیدار ہونا ہے۔

جب انسان اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے تو وہ دوسروں کو دبانے کے بجائے دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے، کیونکہ حقیقی خودی انسان کو ذمہ داری، کردار اور خدمت کی طرف لے جاتی ہے۔


اقبال اور انسانیت کا مشترکہ تصور

اقبال کی فکر میں انسان کی قدر صرف اس کی مذہبی یا قومی شناخت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور انسانیت سے وابستہ ہے۔

اسی لیے اقبال نے برصغیر کی مختلف مذہبی اور تہذیبی روایات سے تعلق رکھنے والی عظیم شخصیات کو اپنی شاعری میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

حضرت رامؑ کے بارے میں اقبال

اقبال نے حضرت رام چندر جی کے بارے میں لکھا:

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند

یہ شعر اقبال کی وسیع تہذیبی نظر کی ایک اہم مثال ہے۔

وہ ایک ایسی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو برصغیر کی ایک عظیم مذہبی و تہذیبی روایت کی علامت ہے۔

یہاں اقبال ہمیں یہ سبق دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ کسی دوسرے مذہب کی قابلِ احترام شخصیت کا احترام اپنے ایمان یا شناخت سے دست برداری نہیں، بلکہ تہذیبی شعور اور انسانی وسعتِ نظر کی علامت ہے۔


حضرت کرشنؑ اور اقبال

اقبال نے “کرشن” کے عنوان سے بھی نظم لکھی۔

یہ بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اقبال برصغیر کی تہذیبی تاریخ اور مذہبی روایت کو محض اختلاف کے زاویے سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کے روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔

یہی رویہ آج کے بین المذاہب مکالمے کے لیے نہایت اہم ہے۔

دوسرے مذہب کو سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان اپنا عقیدہ چھوڑ دے؛ ضروری یہ ہے کہ وہ دوسرے کے عقیدے کو سمجھنے کی کوشش کرے۔


حضرت عیسیٰؑ: محبت اور قربانی کی علامت

اقبال کے کلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر بھی انتہائی احترام سے ملتا ہے۔

اسلامی روایت میں حضرت عیسیٰؑ اللہ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں، اور ان کی زندگی محبت، روحانیت، قربانی اور اخلاقی پاکیزگی کا عظیم نمونہ ہے۔

اقبال کے نزدیک انبیائے کرام کی تعلیمات انسان کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے اخلاقی بلندی، خدا شناسی اور خدمتِ انسانیت کی طرف لے جاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کی فکر میں مذہبی تاریخ محض ماضی کا تذکرہ نہیں بلکہ انسانی اخلاق کی ایک زندہ روایت ہے۔


مذہب نفرت نہیں، اخلاق سکھاتا ہے

اقبال کا معروف شعر ہے:

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا

اس شعر کا تاریخی سیاق برصغیر کی مشترکہ قومی زندگی سے متعلق ہے، مگر اس میں ایک وسیع انسانی پیغام بھی موجود ہے:

مذہب کو انسانوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

مذہب انسان کو اپنے خالق سے جوڑتا ہے، اور خالق سے تعلق انسان کو مخلوق کے حقوق کا شعور دیتا ہے۔


قرآن کا پیغام: تعارف، تصادم نہیں

بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور قرآنِ کریم کے اس عظیم اصول سے بھی تقویت حاصل کرتا ہے:

“وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا”

یعنی:

“اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے بنایا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔”

یہاں اختلاف کو مٹانے کی نہیں بلکہ تعارف اور پہچان کی بات کی گئی ہے۔

دنیا کے مختلف مذاہب، قومیں اور تہذیبیں اگر ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اختلاف دشمنی میں تبدیل ہونے کے بجائے مکالمے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔


رومی کا عشق اور اقبال کی خودی

اگر رومی اور اقبال کی فکر کو دو الفاظ میں بیان کیا جائے تو شاید کہا جا سکتا ہے:

رومی — عشق
اقبال — خودی

لیکن یہ دونوں تصورات ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

رومی کا عشق انسان کے دل کو پاک کرتا ہے، جبکہ اقبال کی خودی انسان کے کردار کو مضبوط کرتی ہے۔

رومی کہتے ہیں کہ دلوں کے فاصلے محبت سے ختم کرو۔

اقبال کہتے ہیں کہ اپنی ذات کو اتنا مضبوط کرو کہ تم دنیا میں خیر، عدل اور انسانیت کے لیے کردار ادا کر سکو۔

دونوں مل کر ہمیں ایک مکمل پیغام دیتے ہیں:

دل میں محبت، ذہن میں شعور اور عمل میں انسانیت۔


جنگ و جدل کے بجائے مکالمہ

آج دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض امن کے معاہدے نہیں بلکہ امن کی ثقافت ہے۔

امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں۔

امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب:

  • انسان دوسرے کے مذہب کا احترام کرے۔
  • اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے۔
  • مکالمے کو مناظرے پر ترجیح دی جائے۔
  • مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے۔
  • نسل اور رنگ کی بنیاد پر امتیاز نہ ہو۔
  • کمزور انسان کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔
  • نفرت انگیز زبان کے بجائے مثبت گفتگو کو فروغ دیا جائے۔

یہی وہ اقدار ہیں جو رومی اور اقبال کی فکر کو آج کے دور میں زندہ اور متعلق بناتی ہیں۔


نئی نسل کے لیے پیغام

اگر ہم واقعی عالمی امن چاہتے ہیں تو ہمیں نئی نسل کی تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھنی چاہیے۔

ہمیں بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ:

اختلافِ عقیدہ دشمنی نہیں۔

اختلافِ رائے نفرت نہیں۔

مکالمہ کمزوری نہیں۔

دوسرے کے مذہب کا احترام اپنے مذہب سے بے وفائی نہیں۔

اور سب سے بڑھ کر:

انسان کی عزت اس کی بنیادی شناخت ہے۔


آج کی دنیا اور رومی و اقبال

آج سوشل میڈیا چند سیکنڈ میں نفرت کو دنیا بھر میں پھیلا سکتا ہے۔ ایک غلط بیان معاشروں میں تقسیم پیدا کر سکتا ہے اور ایک نفرت انگیز پیغام نسلوں کے درمیان فاصلے پیدا کر سکتا ہے۔

ایسے دور میں رومی کا پیغام ہمیں دل کی وسعت سکھاتا ہے اور اقبال کا پیغام ہمیں شعور، خودی اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔

اگر رومی کا چراغ محبت ہے تو اقبال کا چراغ بیداری ہے۔

اور اگر دونوں چراغوں کو ایک ساتھ روشن کیا جائے تو ایک ایسی دنیا کا تصور سامنے آتا ہے جہاں:

مذہب روحانی بلندی کا ذریعہ ہو،
علم شعور کا ذریعہ ہو،
اختلاف مکالمے کا ذریعہ ہو،
اور انسانیت امن کی بنیاد ہو۔


اختتامیہ: انسان کو انسان کے قریب لانے کا سفر

دنیا کو آج مزید دیواروں کی ضرورت نہیں؛ اسے پلوں کی ضرورت ہے۔

اسے مزید نفرت انگیز تقریروں کی ضرورت نہیں؛ اسے مکالمے کی ضرورت ہے۔

اسے مزید جنگ و جدل کی ضرورت نہیں؛ اسے انسانیت کی ضرورت ہے۔

مولانا رومی ہمیں یاد دلاتے ہیں:

تو برائے وصل کردن آمدی
نی برائے فصل کردن آمدی

یعنی:

تم جوڑنے کے لیے آئے ہو، توڑنے کے لیے نہیں۔

اور علامہ اقبال کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قوموں اور معاشروں کی تعمیر افراد کے کردار سے ہوتی ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

لہٰذا اگر ہم ایک پُرامن دنیا چاہتے ہیں تو اس تبدیلی کا آغاز کسی حکومت، کسی ادارے یا کسی معاہدے سے پہلے انسان کے اپنے دل سے ہونا چاہیے۔

آئیں ہم یہ عہد کریں کہ:

ہم نفرت کے بجائے محبت کو،
تعصب کے بجائے احترام کو،
تصادم کے بجائے مکالمے کو،
اور جنگ و جدل کے بجائے انسانیت کو ترجیح دیں گے۔

کیونکہ دنیا کی اصل فتح کسی دوسری قوم کو شکست دینا نہیں؛

دنیا کی اصل فتح یہ ہے کہ انسان، انسان کے قریب آ جائے۔


Comments

Popular posts from this blog

The Saudi–UAE Rivalry, the Yemen War, and the Cost of Power Politics

New Provinces or Better Governance?

General Asim Munir: A Dynamic Leadership and Pakistan’s Rising Global Standing.