Posts

سیاستدانوں کی رٹائیرمنٹ

 میں سوال کرتا ھو پاکستان کے تمام اداروں میں رٹائیرمنٹ کی ایک حد مکرر ھے سوائے سیاست کے یہ واحد طبقہ ھے جو تاحیات پارلیمنٹ کا ممبر بننے کی اھلبیت رکھتا ھے اس طرع سیاسی فیلیڈ میں نئے خون کی آمد نہ ھونے کے برابر ھے یہی برائی کی اصل جڑ ھے جب بیٹا سیاست میں آتا ھے باپ پارلیمنٹ کا ممبر ھوتا ھے دادا یا تو ممبر پارلیمنٹ کا ممبر ھوتا ھے یا رہ چکا ھوتا ھے اس طرع ایک دوسرے کو سپورٹ کرکے پارلیمنٹ تک پہنچایا جاتا ھے یوں خاندانی سیاست کو پروان چڑایا جاتا ھے اور یہ چیز ان کو من مانی کرنے کی اجازت دیتی ھے ن لیگ پپلزپارٹی تحریک انصاف کسی کو بھی چیک کر لیں ھر پارٹی میں ایسے کئی خاندان ھیں جس کے دو سے زائد لوگ پارلیمنٹ کے ممبر ھوں گے یہی برائی کی جڑ ھے ایک دوسری کی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ھے ایک دوسرے کو کرپشن کرنے کا موقع دیا جاتا ھے عوام سیلاب میں بہ جاے یا زلزلوں میں تباہ ھو ان کو کوئی اثر نہیں ھوتا ھے میرے خیال میں کسی کو کسی بھی پارلیمنٹ کا تین بار سے زیادہ ممبر نہ بننے کا قانون ھونا چاھیے کوئی دو بار سے زیادہ وزیر اعلی وزیر اعظم گورنر یا صدر نہ بننے کا قانون ھونا چاھیے اس طرع سیاست می...

تحریک استحکام کا بیانیہ

 تحریک استحکام آج بھی اس بیانیہ پر قائم ھے کہ سیاستدانوں کی رٹائیرمنٹ کی حد مقرر ھونی چاھیے تین بار سے زیادہ کوئی اسمبلی کا ممبر نہ بنیں پاور شئیرنگ طرز پر ون یونٹ اسمبلی ھونی چاھیے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ھوں اور مل جل کر اس ملک کی معشیت کو مستحکم کریں کوئی ایک پارٹی اس ملک کو مستحکم نہیں کر سکتی ھے عدالتی نظام میں اصلاحات ھونی چاہیئے جوڈیشنل کمیشن ریٹائیر ججز پر اور بار کونسل کے صدور پر مشتمل ھو جس میں کوئی  بھی آن ڈیوٹی جج اور چیف جسٹس نہ ھو لوگوں کا اعتراض حتم ھو ایک ھی طرض کا کوئی کیس ایک ھی بینچ میں نہ بھیجا جائے تاکہ چیک اینڈ بیلنس ھو جس جج کا کوئی فیملی ممبر کسی سیاسی پارٹی کا رکن ھو اسے کسی بھی سیاسی کیس کِے بینچ کا حصہ نہ بنایا جائے ججز کا تقرر سئینارٹی بیس پر کیا جائے بنچ کا تعین جوڈیشنل کمیشن کرے دس سالہ معاشی پالیسی کا اعلان کیا جائے تمام پارٹیاں جس کو جاری رکھیں ایکسپورٹ کو بڑا ھیں امپورٹ کو کم کریں ملٹی نیشنل کمپنیز پر لازم ھو کہ وہ اپنی اِنکم کا پچاس پرسنٹ پاکستان میں انوسٹ کریں پارٹیاں ایک ایک دوسرے کی کردار کشی کی بجائے پالیسی اور کارکردگی پر تنقید...

مسٹر عمران کراچی اندھیروں میں آپ موج میں

 مسٹر عمران کراچی اندھیروں میں ڈھوبا رھا آپ اسکے پیسے پر موج کرتے رھے آپ کو عوام کا پیسہ جس سے لوگوں کے گھروں میں روشنی ھونی تھی جس سے انڈسٹری کو سپلائی ملنی تھی لاگوں کا علاج ھونا تھا آپ نے سیاست کی نظر کر دیا خدا کا خوف کریں عوام سے معافی مانگیں اور اللہ سے توبہ کریں

مسٹر عمران کیا مزاق ھے

 مسٹر عمران کیا مزاق ھے کہ آپ کے پاس صرف خود کو سچا ثابت کرنے کے لئے دلیل یہ ھے کہ ن لیگ اور پی پی پی کا فیصلہ نہیں سنایا گیا اگر ان پر جرم ثابت ھو بھی جائے تو آپ بیگناہ ثابت کیسے ھوں گے اس فیصلے کے خلاف عدالت جائیں ثبوتوں کی بنیاد پر بیگناھی ثابت کریں عوام میں انتشار پیدا مت کریں ورنہ نسلوں کے مجرم کہلائیں گے آپ ایک  مشہور اور بڑے سیاستدان ھیں آپ کو یہ زیب نہیں دیتا ھے

عدالت ایک مزاق

 سلام پاکستان پاکستانی عدالتیں اپنے روئے اور اپنے متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے اس قدر بے توقیر ھو گئی ھیں کہ جس کا دل چاھتا ھے وہ نہ صرف فیصلوں کا انکار کرتا ھے بلکہ عدالت کو اور عدالتی اداروں کو جھوٹا قرار دیتا ھے عدالتیں جن کے بارے میں غلط بات کرنے والا تو ھیں عدالت کا مرتکب ھوتا ھے آج لوگ فیصلہ آنے سے پہلے عدالتی بینچ اور فریق دیکھ کر فیصلہ بتا دیتے کہ فیصلہ کیا ھوگا میں عدالتوں کے چیف اور ججز سے سوال کرتا ھوں کہ آپ کا مرتبہ اور حلف کیا اس بات کی اجازت دیتا ھے کہ آپ اس قوم میں انتشار پیدا کرنے کی وجہ بنیں آپ میں سے وہ ججز جو اس متنازعہ فیصلوں کے مرتکب ھیں وہ قوم کے نہیں نسلوں کے مجرم ھیں

انڈے ڈبل روٹی پر پابندی

 ھائے جہالت گورنمنٹ آف پنجاب کا بڑا کارنامہ ڈبل سواری کی بجائے انڈے ڈبل روٹی پر پابندی نئی گورنمنٹ کا حکم نامہ رات نو اور اتوار کو آپ انڈے ڈبل روٹی آئل گھی چینی اور دوسری گرا سری نہیں خرید سکتے ھیں کیوں کہ بیکریوں اور پرچون کی دوکانوں کو رات نو کے بعد اور اتوار کو کھولنے پر پابندی ھے کیوں کہ ان کہ بند ھونے پر بجلی کی بچت ھو گی اور کلب انٹرٹینمنٹ پوائنٹ کھلے رھیں گے کیوں کہ یہاں بجلی خرچ نہیں ھوتی ھیں یا یوں کہیں کہ امیروں کے لئے سب کھلا ھےلیکن غریبوں کے انڈے ڈبل روٹی بند ھے حکومت کی مت ماری گئی ھے

پٹرول اور بجلی کا بہترین ماڈل

پٹرول اور بجلی بچت کا ایرانی ماڈل۔ ایران بے شک پٹرول پیدا کرنے والا ملک ہے مگر اس نے جس طرح ایک منظم نظام کے ذریعے کنٹرول رکھا ہوا ہے، وہ پاکستان میں بھی ایک قابلِ عمل ماڈل ہو سکتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل دوست کی زبانی ذیل میں درج ہے: ایران میں اگر آپ گاڑی یا موٹر سائیکل خریدتے ہیں تو حکومت اس کے ساتھ آپ کو ایک کارڈ بھی دیتی ہے۔ یہ اے ٹی ایم کارڈ جیسا ہوتا ہے۔ اس میں آپ کو ایک مخصوص مقدار میں پیٹرول 1500 تومان (10 روپے) اور دوسرے مخصوص مقدار میں 3000 (20 روپے) تومان میں دیا جاتا ہے۔ اگر آپ زیادہ سفر کرتے ہیں اور یہ مقدار ختم ہو جائے تو پھر آپ کو بغیر سبسڈی کے چھ ہزار تومان پر پیٹرول بھرنا ہو گا۔ ہر پیٹرول پمپ پر اے ٹی ایم مشین کی طرح یہ کارڈ ریڈر لگا ہوتا ہے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ موٹر سائیکل چلانے والے غریب آدمی پر کم بوجھ پڑتا ہےـ وہ پورا مہینہ سبسڈی پر کام چلا لیتا ہےـ امیر آدمی جو بڑی بڑی گاڑیوں کے مالک ہیں انہیں اس کارڈ کی سہولت نہیں دی جاتی۔ پیٹرول اور ڈیزل کے کارڈ دو قسم کے ہوتے ہیں؛ موٹر سائیکل کے کارڈ میں پیٹرول کی مقدار کار کی نسبت کم ہوتی ہے۔ دو قیمتیں ہیں؛  1500 تومان اور 300...